کتاب پالیسیاں اور ضوابط
سیکشن 7000 - طلباء
عنوان ضابطہ - طلباء کی غنڈہ گردی
کوڈ 733.01.1
حیثیت فعال
اختیار کردہ 26 جون، 2019


طلباء
ضابطہ 733.01.1
طلباء کی غنڈہ گردی


پرنس ولیئم کاؤنٹی پبلک سکولز سکول کا ایسا ماحول دینے کیلیئے پرعزم ہے جہاں طلباء غنڈہ گردی سے آزاد ہوں۔ سکول انتظامیہ غنڈہ گردی کی روک تھام کے لئے مناسب اقدامات کرے گی، اور غنڈہ گردی کی اطلاعات پر بروقت اور فیصلہ کن کاروائی کرے گی۔ اس ضابطے کا مقصد مناسب انسدادی اور اصلاحی اقدامات کو یقینی بنانے کے لئے رہنما اصول فراہم کرنا ہے۔ غنڈہ گردی کے طرزعمل کی شناخت کے سلسلہ میں معاونت منسلکہ I ، "غنڈہ گردی والے طرز عمل" میں فراہم کی گئی ہے: جسمانی یا جذباتی۔"
I. غنڈہ گردی کی تعریف غنڈہ گردی
غنڈہ گردی سے مراد کوئی بھی جارحانہ اور بے جا سلوک، جس کا مقصد نشانہ بننے والے کو نقصان پہنچانا، خوف زدہ کرنا یا ذلیل کرنا ہے؛ جس میں جارح فرد یا افراد اور اس کے ہدف کے درمیان حقیقی یا بظاہر طاقت کا عدم توازن شامل ہوتا ہے؛ اور اس کو بار بار دہرایا جاتا ہے یا جس کے نتیجے میں جذباتی چوٹ پہنچتی ہے۔ غنڈہ گردی میں انٹرنیٹ کے ذریعے غنڈہ گردی بھی شامل ہے، جس میں الیکٹرانک پیغامات اور/یا تصاویر کی منتقلی، وصولی، یا اظہار شامل ہے۔ غنڈہ گردی میں معمولی چھیڑ خانی، اودھم مچانا، بحث کرنا یا دوستوں کا جھگڑا شامل نہیں ہے۔

غنڈہ گردی کے طرز عمل میں وہ افعال شامل ہیں جو دوسروں کی جسمانی، زبانی یا جذباتی بدسلوکی کا سبب بنتے ہیں اور برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ طعنے، دھمکیاں، توہین، بے پرکی افواہیں، تذلیل، چھیڑ خانی، دھکا دینا، گرانا اور مارنا، سب کو غنڈہ گردی سمجھا جاتا ہے۔ غنڈہ گردی کی ایک اور قسم انٹرنیٹ کے ذریعے غنڈہ گردی یا سائبر بلنگ ہے۔ سائبر بلنگ ایک طالبعلم/طالبہ کا دوسرے طالبعلم/طالبہ کو دھمکیاں دینا ہے خاص طور سے ای میل کے ذریعے یا ویب سائٹ پر (جیسے بلاگز، سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس) اور الیکٹرانک رابطے جن میں جان بوجھ کر، مخالفانہ، نقصان دہ پیغامات جس کا مقصد دوسروں کو نقصان پہنچانا ہو شامل ہیں؛ بشمول مطلبی، بیہودہ یا دھمکی آمیز پیغامات یا تصاویر بھیجنا؛ دوسرے فرد کی حساس، ذاتی معلومات شائع کرنا؛ کسی شخص کو برا دکھانے کیلیئے اپنے آپ کو اس کی جگہ پیش کرنا؛ اور ذلت آمیز آن لائن ذاتی پولنگ ویب سائٹس۔ ٹیکنالوجی کے ناقابل قبول استعمال کے دائرے میں ایسا استعمال شامل ہے جس میں سکول املاک کی حدود سے باہر ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال جس میں ایسا میٹریل ہے جو سکول ڈویژن کے کام کے عمل یا سکول ڈویژن کی عمومی فلاح کو متاثر کرے، تعلیمی عمل کے وقار کو متاثر کرے، طلباء، سٹاف یا سکول املاک کی فلاح و بہبود کو خطرے سے دوچار کر دے، یا بصورت دیگر ناقابل قبول استعمال سے طالبعلم/طالبہ یا اسٹاف کے حقوق پامال ہوتے ہیں۔ خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف اصلاحی کاروائی، حتی کہ معطلی اور سکول سے اخراج ہو سکتا ہے۔

II. شکایت کرنے کا طریقۂ کار
تمام طلباء کو غنڈہ گردی کے طرزعمل کے خلاف اپنے حقوق کے تحفظ اور شکایت کرنے کے حق کے بارے میں مطلع کیا جائے گا اگر انہیں لگے کہ وہ غنڈہ گردی کا شکار ہوئے ہیں۔ سکول انتظامیہ ہر شکایت کی تحقیقات کرنے، اس بات کا تعین کرنے کہ شکایت اوپر کی گئی تعریف کے مطابق درست ہے اور مناسب اصلاحی اقدامات لینے کی ذمہ دار ہے۔ کوئی بھی طالبعلم/طالبہ ایک منتظم سے بات کر کے یا شکایت کا فارم (منسلکہ II) بھر کر اور اسے سکول منتظم کو واپس کر کے شکایت کرنے کے عمل کا آغاز کر سکتا/سکتی ہے۔ سٹاف کا کوئی رکن بھی طالبعلم/طالبہ یا والد یا والدہ/سرپرست کے کہنے پر شکایت کا آغاز کر سکتے ہیں جو کسی منتظم سے بات کرتے ہیں اور/یا فارم مکمل کرتے ہیں (منسلکہ II)۔ سکول کے تمام سٹاف ممبران کو طالبعلم/طالبہ کے حقوق سے مطلع کیا جائے گا تاکہ وہ طلباء کو مشورہ دے سکیں کہ کیسے شکایات کے عمل کو شروع کیا جا سکتا ہے۔ سکول منتظم درج ذیل رہنما اصولوں کے تحت غنڈہ گردی کی شکایات کا جواب دیں گے۔

III. طالبعلم/طالبہ کی غنڈہ گردی کی شکایت پر ردعمل کے رہنما اصول
غنڈہ گردی کی رپورٹ کی اطلاع ملنے پر سکول پرنسپل یا نامزد کردہ فوری طور پر تحقیقات شروع کرے گا/گی۔ سکول لیول نامزد کردہ جو غنڈہ گردی کے بچاؤ کا کوآرڈینیٹر ہے، پرنسپل کو شکایات حل کرنے، انٹرویوز کے ثبوت بنانے اور پرنسپل کو رپورٹ فراہم کرنے میں مدد کریں گا/گی۔
A. شکایت کرنے والے سے ملاقات
1. غیر یقینی بنیادی معلومات (کون، کیا، کب، کہاں)
2. جب ممکن ہو طالبعلم/طالبہ سے تحریری بیان حاصل کرنا؛
3. گواہان یا تصدیقی معلومات/ثبوت کے بارے میں پوچھنا؛
4. جب مناسب ہو کونسلنگ خدمات کی پیشکش کرنا؛
5. انتقامی کاروائی کے خلاف تحفظ کی یقین دہانی کرانے کی پیشکش کرنا؛
6. بعد کے عمل کے طریقوں کی وضاحت کرنا؛
7. رازداری کو برقرار رکھنا اور جہاں تک ممکن ہو تمام فریقین کی رازداری کا تحفظ کرنا؛ اور
8. واقعے کے 48 گھنٹوں کے اندر اندر واقعے کی رپورٹ کو مکمل کر کے دفتر برائے رسک منیجمنٹ اور سیکوریٹی سروسز کو جمع کروانا۔

B. ثبوتوں کا جائزہ لینا اور گواہ (گواہان) کے انٹرویو

C. غنڈہ گردی کا الزام لگنے والے سے ملاقات
1. غنڈہ گردی کے طرزعمل اور اس کی شدت کی وضاحت کرنا؛
2. الزام پیش کرنا؛
3. جواب/تردید کے مواقع فراہم کرنا؛
4. تحقیقات اور تعقیبی طریقہ کار کی وضاحت کرنا؛
5. انتقامی کاروائی کے خلاف احتیاط برتنا؛
6. مناسب اصلاحی/تادیبی کاروائی کرنا؛ اور
7. ضروری معطلی/واقعے کی رپورٹس مکمل کرنا۔

D. درج ذیل حقائق جمع کرنا اور ان کی تشخیص کرنا مگر ان تک محدود نہیں:
1. واقعہ (واقعات) کا بیان بشمول طرزعمل کی نوعیت؛
2. طرز عمل کتنی بار وقوع پزیر ہوا؛
3. کیا ماضی میں کوئی واقعات یا طرزعمل کے مسلسل نمونے موجود تھے؛
4. ملوث فریقین کے درمیان تعلق؛
5. ملوث فریقین کی خصوصیات (جیسے گریڈ، عمر، جنس، قومیت وغیرہ)؛
6. غنڈہ گردی یا ہراساں کرنے والے افراد کی شناخت اور تعداد؛
7. مبینہ واقعہ (واقعات) کا مقام، وقت اور تاریخ؛ اور
8. کیا طرز عمل طالبعلم/طالبہ کی تعلیم پر بری طرح اثرانداز ہوا یا تعلیمی ماحول پر بری طرح اثرانداز ہوا؛ شکار ہونے والے طالبعلم/طالبہ کے گریڈ، حاضری، ظاہری سلوک، دوستوں کے ساتھ تعامل، سکول اور غیر نصابی سرگرمیوں میں شرکت، اور دیگر کارکردگی یا طرز عمل کے اشاروں پر غور کے ذریعے تعین کیا جاتا ہے۔
سٹاف طلباء کے ساتھ تمام ملاقاتوں اور گفتگو کا تحریری ریکارڈ رکھنے کا ذمہ ہو گا بشمول تاریخوں، اوقات، جگہوں، گواہان کے نام اور انٹرویوز اور واقعات کے بارے میں دیگر معلومات کے نوٹس۔ ان رہنما اصولوں سے کسی قسم کی دوری کو غیر معمولی حالات کی بنیاد پر جائز ہونا ضروری ہے۔

ایک رپورٹ جو یہ ظاہر کرے کہ خاص عمل یا واقعہ غنڈہ گردی کی پالیسی اور "ضابطہ اخلاق" کی خلاف ورزی پر مبنی ہے، اس کیلیئے ایسے تعین کی ضرورت ہے جو حقائق اور ارد گرد کے حالات اور درج ذیل کے تعین پر مبنی ہو:
1. غنڈہ گردی اور/یا ہراساں کرنے والے طرزعمل کو روکنے کیلیئے سفارش کردہ ضروری اقدامات؛
2. غنڈہ گردی کا شکار ہونے والے کے ساتھ تحفظ کا منصوبہ اور بعد میں ہونے والی کانفرنس؛ اور
3. پرنسپل کو حتمی رپورٹ۔
E. والد یا والدہ (ﻭﺍﻟﺩﻳﻥ)/ ﺳﺭﭘﺭﺳﺕ (سرپرستان) کو نوٹس مبینہ غنڈہ گردی کے واقعے میں کسی بھی ملوث طالبعلم/طالبہ کے والد والدہ (والدین)/سرپرست(سرپرستان) کو جتنا جلدی ممکن ہو گا مطلع کیا جائے گا جو مبینہ غنڈہ گردی کے نوٹس کے پانچ تعلیمی دنوں کے اندر اندر ہو گا۔

F. غنڈہ گردی کے واقعے میں معذور طالبعلم/طالبہ (طلباء) کے ملوث ہونے کی صورت میں غور کیا جائے گا۔ کچھ معذور طلباء کی غنڈہ گردی بھی شہری حقوق کے قوانین کے تحت ہراسانی اور اضافی ذمہ داریاں پیدا کر سکتی ہیں۔ اس بات کا تعین کرنے کیلیئے خصوصی طریقہ کار استعمال کیے جائیں گے کہ آیا غنڈہ گردی کے اثرات کے نتیجے میں طالبعلم/طالبہ کی ضروریات میں تبدیلی آئی ہے اور انفرادی تعلیمی پروگرام (IEP) با معنی تعلیمی فوائد فراہم کرنے کے لیے مزید ڈیزائن نہیں کیا جائے گا۔ IEP ٹیم کو فیصلہ کرنا چاہیے اور اسے معذور افراد کے تعلیمی ایکٹ میں والدین کی شرکت کی فراہمی کے مطابق ہونا چاہیے۔

G. رپورٹ کی تحقیقات کے نتائج تین ممکنہ نتائج موجود ہیں:
1. اصلاحی اقدامات - اگر واقعہ غنڈہ گردی کی پالیسی کے تحت آتا ہے تو قائم کردہ تادیبی کاروائی کی مطابقت میں مناسب نتائج اور/یا مداخلت لاگو کی جائے گی۔ تجویز کیے گئے اقدامات غنڈہ گردی سے بچانے اور کارکردگی کی اصلاح کیلیئے ڈیزائن کیے جانے چاہیئے اور گریجویٹ مداخلت شامل ہونی چاہیئے جو طرزعمل کے تناظر اور شدت کیلیئے موزوں ہوں۔ اصلاحی اقدامات تجاویز سے معطلی یا اخراج تک جا سکتے ہیں جن کا انحصار واقعے کی شدت، پرانے واقعات اور شکار ہونے والے اور دیگر طلباء کو مزید غنڈہ گردی سے بچانے کی ضرورت پر ہے۔ غنڈہ گردی کے طرزعمل سے متاثر دیگر افراد کیلیئے مناسب معاونتی امدادی خدمات فراہم کرنی چاہیئے۔

2. اگر واقعہ غنڈہ گردی کی پالیسی کے دائرہ کار سے باہر ہے اور/یا ایک مجرمانہ عمل سمجھا جاتا ہے تو مناسب قانون نافذ کرنے والے حکام اور دفتر برائے رسک منیجمنٹ اور سیکوریٹی کو رجوع کرنا چاہیئے۔

3. اگر واقعہ سکول ڈویژن کی پالیسی کے دائرہ کار سے باہر ہے اور اسے ایک مجرمانہ عمل نہیں سمجھا جاتا تو اس میں ملوث تمام طلباء کے والد والدہ(والدین)/سرپرست(سرپرستان) کو مطلع کیا جائے گا۔

IV. دیگر قوانین سے تعلق
سکول ڈویژن ہراسانی، دھمکیوں اور غنڈہ گردی سے متعلق تمام ریاستی اور وفاقی قوانین پر عمل کرتی ہے۔ پالیسی کسی طالبعلم/طالبہ، والد یا والدہ/سرپرست یا سکول ڈویژن کو ہراسانی یا امتیازی سلوک کی بنیاد پر قدم اٹھانے سے منع نہیں کرتی جس کی بنیاد فرد کی جنس یا مقامی، ریاستی یا وفاقی قانون کے تحت قانونی طور پر محفوظ کلاس میں ممبرشپ پر ہو۔

V. انتقامی کاروائی کے خلاف تحفظ
طلباء غنڈہ گردی کے واقعات کی رپورٹ ملزم سے کسی انتقامی کاروائی کے خوف کے بغیر آزادانہ طور پر کر سکتے ہیں۔ انتقام کی کسی بھی کوشش کا موزوں اصلاحی اقدامات جو اخراج تک جا سکتے ہیں، کے ذریعے تدارک کیا جائے گا۔

VI. اپیل کا طریقۂ کار
دونوں فریقین غنڈہ گردی کے طرزعمل میں شامل کسی بھی صورت حال میں سکول انتظامیہ کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق رکھتے ہیں۔ والد یا والدہ(والدین)/سرپرست(سرپرستان) یا رہا پانے والا طالبعلم/طالبہ تحریری اپیل لکھ سکتا/سکتی ہے اور اسے متعلقہ لیول ایسوسی ایٹ سپرنٹنڈنٹ کو بھیج سکتے ہیں۔ والد والدہ(والدین)/سرپرست(سرپرستان) اور رہا پانے والے طلباء کے پاس پالیسی 731، "طلباء کے معاملات کی اپیل" اور ضابطہ 1-731 ، "طالبعلم/طالبہ کے معاملات کی اپیل" کے تحت، لیول ایسوسی ایٹ سپرنٹنڈنٹ اور سکول بورڈ کے پاس مزید اپیل کرنے کا حق ہے۔

VII. اطلاع نامہ
طلباء اور والد والدہ(والدین)/سرپرست(سرپرستان) کو "ضابطۂ اخلاق" کے تحت مطلع کیا جائے گا کہ غنڈہ گردی کے طرزعمل کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سکول انتظامیہ اعلانات، نیوز لیٹر، اساتذہ کی میٹنگز یا دیگر مناسب ذرائع کے ذریعے تمام طلباء اور سٹاف کو غنڈہ گردی کے منع ہونے اور شکایات رپورٹ کرنے کے طریقوں سے مطلع کریں گے۔ سکول ڈویژن کی ویب سائٹ غنڈہ گردی کی رپورٹ کرنے اور ڈویژن کے غنڈہ گردی کے بچاؤ کے کوآرڈینیٹر کی رابطہ معلومات سے متعلق معلومات کو نمایاں طور پر شائع کرے گی۔

ماسوائے اس کے کہ قانون کی طرف سے منع ہو، پرنسپل فوری طور پر کسی ایسے عمل کی رپورٹ کرے گا/گی جو مجرمانہ جرم پر مشتمل ہے، اس کی اطلاع ایسے عمل کے شکار نابالغ طالبعلم/طالبہ کے والد والدہ(والدین)/سرپرست(سرپرستان) کو کرے گا/گی۔ پرنسپل رپورٹ کریں گے کہ واقعے کی مقامی پولیس کو رپورٹ کر دی گئی ہے اور اگر والد والدہ(والدین)/سرپرست(سرپرستان) چاہتے ہیں تو مقامی پولیس سے مزید معلومات کیلیئے رابطہ کر سکتے ہیں۔

VIII. تدریس

غنڈہ گردی کی نا موزونیت سے کریکٹر ایجوکیشن پروگرام نمٹے گا جو سماجی علوم اور K تا 12 سکول کونسلنگ نصاب کے ذریعے اور اس کے ساتھ ساتھ "ضابطہ اخلاق" میں پڑھایا جاتا ہے۔

IX. احتیاطی تدابیر
A. غنڈہ گردی سے بچا جا سکتا ہے اگر سکول کا تمام سٹاف طلباء اور سٹاف سے رابطہ کرنے کی کوشش میں مدد کرے:
1. غنڈہ گردی کا طرز عمل کیا ہے (تعریف)؛
2. غنڈہ گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا؛
3. نتائج کیا ہوں گے؛
4. شکایات کو کیسے رپورٹ کیا جائے؛
5. شکایات سے کیسے نمٹا جاتا ہے؛ اور
6. اس کے والد والدہ(والدین)/سرپرست(سرپرستان) کو مطلع کیا جائے گا۔

B. طرزعمل پر نظر رکھنا اور قوانین لاگو کرنا
1. شکایات پر فوری، منصفانہ اور فیصلہ کن عمل۔

2. غنڈہ گردی کا شکار ہونے کی صورت میں طلباء سے درج ذیل اقدامات کرنے کو کہیں:
a. غنڈہ گردی کرنے والے کو واضح انداز میں بتائیں کہ ایسے اقدامات قابل قبول نہیں ہیں۔
b. غنڈہ گردی کرنے والے کو سخت الفاظ میں رکنے کو کہیں۔
c. غنڈہ گردی کے اصل واقعے سے متعلق تحریری نوٹس، تاریخیں، اوقات، جگہیں، گواہان کے نام اور دیگر معلومات اپنے پاس رکھیں۔
d. غنڈہ گردی کے نوٹس، خطوط اور دیگر ثبوت پاس رکھیں۔
e. کونسلر یا منتظم سے بات کریں اور اگر مناسب ہو تو شکایت درج کرائیں۔

C. فیکلٹی اور سٹاف کی تعلیم
1. غنڈہ گردی کی شناخت، مداخلت کے عمل، رپورٹنگ کے عمل اور نتائج کے بارے میں سالانہ تعلیم کا اہتمام کیا جائے گا۔
a. پرنس ولیئم کاؤنٹی پبلک سکولز کے "ضابطہ اخلاق" میں طلباء، اہل خانہ، اور سٹاف کیلیئے غنڈہ گردی کی تعریف، رپورٹنگ کے عمل، خدشات اور نتائج کے بارے میں معلومات ہیں۔
b. ہر سکول کیلیئے غنڈہ گردی سے بچاؤ کے مقرر کردہ کوآرڈینیٹر سالانہ پیشہ ورانہ ترقی کے سیشن میں غنڈہ گردی کی شناخت، مداخلت کا عمل، رپورٹنگ کا عمل اور نتائج سے متعلق معلومات شامل کرے گا۔
c. غنڈہ گردی سے بچاؤ کی تربیت، تحقیق پر مبنی پروگراموں اور تکنیکوں کا استعمال کرتے رہنا، کو مسلسل لاگو کرنا جاری رہے گا۔
d. سکول ڈویژن کا غنڈہ گردی سے بچاؤ کا کوآرڈینیٹر، آفس برائے پیشہ ورانہ لرننگ کے ساتھ مل کر غنڈہ گردی سے بچاؤ کے آن لائن تربیت فراہم کرے گا جو غنڈہ گردی کے طرز عمل کی شناخت، مداخلت کے عمل، رپورٹنگ کے عمل اور نتائج سے نمٹیں گے۔

2. کوششوں اور پروگرامنگ کی تشخیص اور تبدیلی کیلیئے طلباء، فیکلٹی، سٹاف اور والد والدہ(والدین)/سرپرست(سرپرستان) سے سالانہ ڈویژن کے سروے کیے جائیں گے۔

3. تحقیق پر مبنی پروگرام کو لاگو کرنے میں تربیت یافتہ سکول طلباء سے سروے کروانا جاری رکھیں گے تاکہ ان کی مداخلت کے اثرات کی تشخیص ہو سکے اور ان کی کوششوں اور پروگراموں میں بہتری لائی جا سکے۔

4. ڈویژن کی سطح پر غنڈہ گردی سے بچاؤ کا کوآرڈینیٹر آفس برائے اکاؤنٹبیلیٹی کے ساتھ تعاون میں کوششوں کی تشخیص کریں گے۔

X. غنڈہ گردی کا شکار ہونے والے اور اس کا ارتکاب کرنے والے کو مشاورت کیلیئے بھیجنے کا طریقہ کار
غنڈہ گردی یا ہراسانی کے شبہے میں یا جب غنڈہ گردی رپورٹ کی جائے گی تو مداخلت کا پروٹوکول موجود ہو گا۔ واقعات کی ممکنہ شدت کی حد کیلیئے مناسب معاونت کے مجموعے میں درج ذیل شامل ہے (اس میں سماجی مہارتوں کی تربیت سے فائدہ اٹھانے والے طلباء سے لے کر وہ طلباء شامل ہیں جنہیں مجرمانہ الزامات کا سامنا ہو سکتا ہے):

1. ریفرل کے آغاز کیلیئے واضح انداز میں رابطے کا عمل؛

2. سکول کی بنیاد پر مبنی مناسب خدمات پر غور کیلیئے سکول کی مداخلتی ٹیم کو ریفرل جس میں درج ذیل شامل ہیں:
a. دفتر برائے سٹوڈنٹس سروسز سپورٹ سٹاف یا کونسلر، غنڈہ گردی یا ہراسانی کے شکار کو ضروریات کے مطابق معاونت اور مشاورت فراہم کرتے ہیں؛
b. ان طلباء کے طرز عمل سے نمٹنے کیلیئے تحقیق پر مبنی کونسلنگ/مداخلت جو دوسروں کو ہراساں کرتے اور غنڈہ گردی کرتے ہیں؛ اور
c. اگر ضروری یا مناسب ہو تو، والد والدہ(والدین)/سرپرست(سرپرستان) کو تحقیق پر مبنی کونسلنگ/مداخلت مہیا کی جائے گی جن میں معاونت اور امداد شامل ہے۔

انتظامیہ اور سکول کے تمام ملازمین اپنے متعین کردہ اختیارات کے اندر رہتے ہوئے اس ضابطے پر مسلسل عمل درآمد، اور ممکنہ حد تک طلباء کی رازداری کے ذمہ دار ہیں۔

ایسوسی ایٹ سپرنٹنڈنٹ برائے خصوصی تعلیم اور سٹوڈنٹ سروسز (یا نامزد کردہ) اور لیول ایسوسی ایٹ سپرنٹنڈنٹ اس ضابطے کو نافذ کرنے اور اس کی نگرانی کرنے کے ذمہ دار ہے۔

اس ضابطے اور متعلقہ پالیسیوں کا کم از کم پانچ سالوں میں جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق دہرایا جائے گا۔


کراس حوالہ جات
731 - پالیسی - طالبعلم/طالبہ کے معاملات کی اپیل

منسلکہ I کے PDF ورژن کے لیے یہاں کلک کریں

منسلکہ II کے PDF ورژن کے لیے یہاں کلک کریں