PWCS سکول کے طہارت خانے میں ویپنگ (ای سگریٹ نوشی) روکنے کے لیے ایک پائلٹ پروگرام شروع کر رہا ہے۔ یہ پہل ہماری حکمت عملی منصوبے کا ایک اہم حصہ ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہر طالب علم ہمارے سکول کی عمارت کے تمام حصوں، بشمول طہارت خانوں میں، محفوظ اور معاون محسوس کرے۔
جنوری 2025 سے اس کا آغاز کرتے ہوئے پائلٹ پروگرام سات سکولوں میں نافذ کیا جائے گا، جہاں مخصوص باتھ رومز میں خصوصی ویپنگ ڈٹیکشن سسٹمز نصب اور فعال کیے جائیں گے۔ یہ سسٹم ویپنگ سرگرمیوں نشاندہی کرنے اور سکول حکام کو خبردار کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، تاکہ بروقت تدارک اور معاونت فراہم کی جا سکے۔
ویپ ڈٹیکٹرز ویپنگ کے واقعات ہونے پر پر فوری ردعمل فراہم کرتا ہے، جیسے ہی واقعات پیش آتے ہیں ایک قابل سماعت الارم کے ساتھ، متنی اور ای میل الرٹس ارسال کرتا ہے۔ یہ موجودہ سیکورٹی سسٹمز کے ساتھ ضم ہو جاتا ہے اور لڑائی جھگڑے کی نشاندہی کرنے والے شور کی صورتحال پر بھی الرٹ بھیج سکتا ہے۔
ویپ ڈیٹیکٹرز والے طہارت خانے میں واضح اور نظر آنے والے نشانات نظر آئیں گے۔ پورے سکولی دن سیکورٹی چیکس میں اضافی جانچ شامل کی جائے گی، مخصوص طہارت خانے کو استعمال کے لیے مختص کیا جائے گا، اور ان طہارت خانوں کے نزدیک عملے کے لیے ڈیوٹی اسٹیشنز تفویض کیے جائیں گے۔
ویپ ڈٹیکٹرز ای سگریٹ میں پائی جانے والی چیزیں جیسے نکوٹین یا پروپیلین گلائکول سے فعال ہو سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ کہ، ہیئر سپرے یا زیادہ دھول جیسے وسیلے سے پیدا ہونے والے ایروسولز کی زیادہ مقدار بھی ڈٹیکٹرز کو متحرک کر سکتی ہے۔ حتیٰ کہ پرفیوم یا دیگر خوشبودار مصنوعات کی تیز خوشبو، اگر ان میں وہ کیمیائی مرکبات موجود ہوں جو ویپ کے دھوئیں میں پائے جاتے ہیں، بھی ویپ ڈٹیکٹر کو متحرک کر سکتی ہے۔
جب ویپ ڈٹیکٹر الرٹ ہوجاتا ہے تو انتظامیہ، سیکورٹی، یا معلمین بر وقت کیمرے(طہارت خانے کے داخلی دروازے کے باہر کیمرے نصب کیے گئے ہیں- غسل خانے کے اندر کوئی کیمرہ استعمال نہیں کیا جا رہا ہے) چیک کرتے ہیں یا مزید خود متحرک ہوتے ہیں۔ الرٹ تلاش کرنے کا معقول سبب فراہم کرتا ہے۔ تمام واقعات کو دستاویزی شکل دی جاتی ہے، اور کسی بھی طالب علم کے ریفرک کو طلبہ کے معلوماتی نظام میں درج کیا جاتا ہے۔ کوئی بھی ممنوعہ شئی برآمد ہونے کی صورت میں اسے سکول ریسورس افسر (SRO) کے حوالے کیا جاتا ہے۔ پہلی دفعہ خلاف ورزی کرنے والوں کو اسٹوڈنٹ ہیلتھ اینڈ ویلنس ڈپارٹمنٹ کے ذریعہ اختیاری ورچوئل 'رک جائیں اور غورو فکر کریں' پروگرام پیش کیا جاتا ہے۔
طلبہ اپنے دوستوں یا ساتھیوں کی صحت سے متعلق خدشات کی اطلاع دینے کے لیے 'کچھ بتائیں' گمنام ٹپ لائن استعمال کر سکتے ہیں۔ ہائی سکولز میں سیو (SAVE) کلبس بھی ویپنگ خطرات کے بارے میں ساتھیوں کے درمیان مباحثہ کو فروغ دیتے ہیں۔ منشیات کے استعمال کے مسائل میں مدد فراہم کرنے کے لیے نیو ہورائزن معالج بھی ہائی سکولز میں دستیاب ہیں۔ علاوہ ازیں، طلبہ کو کمیونٹی رسورسز بشمول نشے سے متعلق خدشات کے لیے مشاورتی خدمات کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔
ویپ ڈٹیکٹرز کی تاثیر کئی عوامل سے طے کی جائے گی: ای سگریٹ کے لیے ڈسپلن کوڈز میں کمی، مقام یا سکول کی طرف سے ڈٹیکشن الرٹس میں کمی، اور سکول میں مجموعی طور پر تحفظ کے احساس میں اضافہ، جیسا کہ سالانہ سٹوڈنٹ کلچر اور کلائمٹ سروے میں اطلاع دی گئی ہے۔